ہم بے حسی کی چادراوڑھے ہیں جبکہ میڈیا اور مودی دونوں اس مشن میں جٹے ہیں :جے ڈی آر
پٹنہ،7؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)جنتادل راشٹر وادی نے روہنگیا مسلمانوں کو قتل عام پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ابھی بھی ہندوستان کی 25 کروڑ سے زائد آبادی متحد نہیں ہوئی تو لگ بھگ یہی صور ت حال ہندوستانی مسلمانوں کی ہونے والی ہے۔ وہ دن دور نہیں ہے کہ جب ہندوستان کے مسلمان روہنگیا مسلمانوں سے بھی بدترین حالات دیکھیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 70 سال میں تمام مسلکی پیشواؤں نے مسلمانوں کو اس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ اپنی بربادی کی زمین ہم خود تیارکر رہے ہیں۔ آج کے مسلمان اپنی تباہی سے باخبر نہیں ہے۔پڑوس میں ہمارے روہنگیا مسلمان بھائی گاجر۔ مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں اور ہم احتجاج تک نہیں کر پارہے ہیں۔ دراصل یہ ہماری مفلوج ذہنیت کا غماز ہے۔ دنیا کی اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود ہم یہ آواز تک بلند نہیں کر پارہے ہیں کہ آنگ سان سوکی کو امن کیلئے دیا گیا نوبل ایوارڈ واپس کیا جائے اور بدھوں کے مذہبی پیشوا دلائی لامہ کو ہندوستان سے باہر نکالا جائے۔ جس کی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں خاموش حمایت ہے۔ جے ڈی آر کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنماء اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ آج ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت حشر کے میدان کے منظر جیسا ہے۔ جب سب اپنے اپنے غرض اور فکر میں پڑے ہوں گے۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔کوئی چاہ کر بھی حشر کے میدان میں کسی کی مدد نہیں کر پائے گا۔آج وہی حال ہندوستانی مسلمانوں کا ہے۔سب اپنی خودغرضی میں مبتلا ہے۔ بے حسی کا چادر اس طرح اوڑھے ہیں کہ اپنے مظلوم بھائیوں کا درد بھی انہیں محسوس نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی اس بدتر حالت کے لئے ہمارے قابل احترام علماء حضرات ہیں۔ جنہوں نے ملت کو مسلک کی چاشنی پلا کر اسلام مذہب سے دیگر الگ ۔ الگ مکتبہ فکر میں ڈال دیا۔ جنہیں اولیاء کرام، بزرگان دین سے سبق لینا تھا مگر ان لوگوں نے دین کی اپنی ہی دکان چلا دی۔ آج ہندوستان کا کوئی بھی مذہبی پیشوا، علماء روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا نظر نہیں آرہے ہیں۔ اوردنیا روہنگیا مسلمانوں کے حق میں اس لئے نہیں بول رہا ہے کہ وہ مظلوم قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں مظلوم مسلمانوں کو دہشت گرد قراردیا جارہا ہے۔ ہندوستانی میڈیا اور وزیر اعظم مودی دونوں اس مشن میں جٹے ہیں اور جو شکل سے مسلمان ہیں وہ چائنلوں پر بیٹھ کر میر جعفر اور میر صادق کا رول ادا کر رہے ہیں۔ یہ ناقابل برداشت ہے۔ ہم جواب نہیں دے رہے ہیں ہم میں سے ہی دلال مسلمان آر ایس ایس کا ایجنٹ بن کر زہر اگل رہا ہے اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ پاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء کرام نے ملت کو مسلک کی ایسی نیند کی گولی کھلا کر سلا دیا ہے کہ وہ نہ آواز اٹھانے کو تیار ہے اور نہ ساتھ دینے کیلئے ۔ 2019 کے بعد بھی اگر نریندر مودی کی حکومت آتی ہے تو یہ ذمہ داری ہماری ہی ہوگی کہ ہم اپنے قیادت پر آج بھی توجہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ذہنی طور پر ہم اتنے گندے ہو چکے ہیں کہ حق بات سننا بھی پسند نہیں کرتے تو ظاہر سی بات ہے ظلم کے شکار ہوں گے ہی ۔ہندوستان کا منظر نامہ بھی میانمار سے کم نظر نہیں آرہا ہے۔ حالات بدل رہے ہیں لیکن ہم بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ منافقانہ سوچ ہمیں اندھیرے کنویں کی طر ف لے جارہی ہے۔ مگرہم حالات کا رخ موڑنے کیلئے رضا مند نہیں ہیں۔ تو ہماری حالت بھی روہنگیا مسلمانوں کی طرح ہی ہونا ہے۔